رابطہ عالم اسلامی  کی جانب سے  انسانی حقوق کونسل  کی اس متفقہ قرارداد کا خیر مقدم جس میں خلیجی ممالک اور اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی

رابطہ عالم اسلامی  کی جانب سے  انسانی حقوق کونسل  کی اس متفقہ قرارداد کا خیر مقدم جس میں خلیجی ممالک اور اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی

مکہ مکرمہ:

رابطہ عالم اسلامی نے انسانی حقوق کونسل کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کیے گئے اس فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے، جس میں مملکتِ سعودی عرب، مملکتِ بحرین، ریاستِ کویت، سلطنتِ عمان، ریاستِ قطر، متحدہ عرب امارات اور  مملکتِ ہاشمیہ اردن پر ایران کی کھلی مجرمانہ جارحیت کے نتیجے میں انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے سنگین اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رابطہ کے جنرل سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں، سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی نے رابطہ کی عالمی کونسلز، ادارہ جات اور اکیڈمیز کی جانب سے انسانی حقوق کونسل کے اس منصفانہ مؤقف کو سراہا، جس میں اس ایرانی جارحیت کی دوٹوک مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر اس کے خاتمے اور اس کے ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس امر کی نشاندہی کی کہ اس جارحیت کے نتیجے میں نہایت سنگین خلاف ورزیاں اور غیر معمولی خطرناک انسانی اثرات سامنے آئے ہیں، جو صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کی تنبیہ کے مطابق اس جارحیت کے باعث تقریباً 45 ملین مزید افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں، انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اس فیصلے کا متفقہ طور پر منظور ہونا ایرانی نظام کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ عالمی برادری اس کی بے بنیاد وجوہات کے تحت کی جانے والی جارحیت کو یکسر مسترد اور اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔

جمعرات, 26 March 2026 - 13:34